May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/protect-the-arctic.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
US President Joe Biden, left, pauses during a meeting with Israeli Prime Minister Benjamin Netanyahu, right, to discuss the war between Israel and Hamas, in Tel Aviv, Israel, Wednesday, Oct. 18, 2023. (File photo: Reuters)

اپنے اپنے ہاں اقتدار کے بچانے کے چیلنجوں میں الجھے صدر جوبائیڈن اور وزیر اعظم نیتن یاہو کے درمیان حالیہ تناؤ کے اس ماحول میں امریکی اسلحے کی اسرائیل کو ترسیل پر کئی سوال اٹھنے لگے ہیں کہ آیا جوبائیڈن اور نیتن یاہو کی یہ مخاصمانہ بیان بازی امریکی اسلحے کی اسرائیل کے لیے سپلائی میں کمی کا ذریعہ بن سکے گی یا نہیں۔ خصوصاً جب اسرائیل نے رفح پر حملے کا تہیہ کر رکھاہے۔ رفح میں اس وقت 15 لاکھ فلسطینی پناہ لیے ہوئے ہیں اور غزہ کو امدادی سامان کی ترسیل کے لیے واحد راہداری بھی یہی رہ گئی ہے۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ اسرائیل نے رفح پر حملہ کیا تو کیا یہ واقعی امریکی سرخ لکیر کو اسرائیل کا عبور کر جانا ہو گا، یا جوبائیڈن اور ان کی حکومت اس طرح کی باتیں محض لال لال ہونے کا دعویٰ کرنے کے لیے کرتی رہے گی۔ جبکہ پہلے کی طرح ہی اسرائیل کی مدد جاری و ساری رہے گی۔

ایک اور سوال جو ان دنوں جوبائیڈن انتظامیہ میں زیر بحث ہے کہ جوبائیڈن نیتن یاہو کی حماس کے خلاف جنگ میں مزید فلسطینی شہریوں کی ہلاکتوں سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ بظاہر بڑا فائدہ یہ اٹھایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کے لیے اسلحے کی ترسیل میں کمی کر دی جائے، لیکن یہ اپنی جگہ حقیقت ہے کہ نیتن یاہو کے سرکش رد عمل اور بہت سے ڈیمو کریٹس کے مطالبے کے باوجود امریکہ نے اسلحے میں کمی کے مطالبے کی مزاحمت ہی کی ہے۔ البتہ اس سے جوبائیڈن کی انتخابی مہم کے دوران ڈیمو کریٹ ووٹرز کو اپنی طرف کرنے کا ایک فائدہ ضرور ہو سکتا ہے۔ لیکن یہ بھی ایک انتہائی احتیاط کے ساتھ چلی جاسکنے والی چال ہو گی کہ اس کا ریپبلکنز کو زیادہ فائدہ نہ ہو جائے۔

اس پس منظر میں 2024 کے صدارتی انتخاب میں جوبائیڈن کی دوبارہ منتخب ہونے کی کوشش نے اس کی حکمت عملی اور رد عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اسرائیل کے لیے زیادہ ناخوشی اور ناراضگی ووٹرز پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ صدر جوبائیڈن جو خود کو صہیہونی کہتے ہیں ایک مشکل فیصلے کے چیلنج سے دوچار ہیں۔ دہائیوں پر پھیلی اسرائیلی حمایت اور مدد کی پالیسی سے کیسے اور کس حد تک نکلیں۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ بدلتی ہوئی دنیا میں امریکہ اور مغربی ممالک کو اسرائیل کے بارے میں نئی سوچ کی ضرورت ہو گی مگر جو اس نئی سوچ کی تخلیق کی عملی کوشش کرے گا اس کے اپنے لیے مضمرات کیا ہوں گے؟ یہ بڑا رسک بھی ہو سکتا ہے۔

مگر ریپبلکن اور ڈیموکریٹ انتظامیہ دونوں کے لیے مشرق وسطیٰ میں مذاکرات کاری کرنے کا تجربہ رکھنے والے ‘ آرون ڈیوڈ ملر’ کا کہنا ہے ‘اس سے کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ آپ اسے کیسے کاٹتے ہیں اور جوبائیڈن اس بحران سے کیسے نمٹنا ہے۔’

فرق پڑتا ہے یا نہیں اس سے قطع نظرابھی تک ایسے اشارے نہیں ہیں کہ رفح پراسرائیلی حملے کی صورت میں امریکی ہتھیاروں کی سپلائی پر پابندی کے بارے میں کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ البتہ جو بائیڈن کا ایک خفیف سا انتباہ ضرور کئی روز پہلے سامنے آیا تھا کہ منظم اسرائیلی منصوبے کے بغیر ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ غزہ کی نصف سے زیادہ آبادی رفح کے علاقے میں پناہ لیے ہوئے ہے۔

جوبائیڈن نے تازہ انٹرویو اپنی سوچ کا اظہار ایک سوال کے جواب میں سرخ لکیر کے پیرائے میں ضرور کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل کا دفاع حساس معاملہ ہے اور اس کا کوئی راستہ نہیں ہے کہ میں کہہ دوں کہ میں جا رہا ہوں اور تمام ہتھیاروں کو کاٹ دوں تاکہ ان کی حفاظت کے لیے آئرن ڈوم کا دفاعی نظام نہ رہے۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے واضح طور پر جارحانہ ہتھیاروں کے بارے میں بھی ایسی کوئی یقین دہانی نہیں کروائی۔ مگر یہ ضرور ہوا ہے کہ میڈیا رپورٹس میں کی گئی قیاس آرائیوں میں اضافہ ضرور ہو گیا ہے۔ اگر وہ اسرائیل پر شرائط عائد کرتے ہیں، جو کہ امریکی ساختہ سازوسامان پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے تو ایسے ہتھیار شامل کیے جا سکتے ہیں۔ تو اسرائیل کو ان شرائط کی زد میں لایا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ بلی کے گلے میں گھنٹی باندھنے والی بات ٹھہرے گی کہ گھنٹی باندھے گا کون؟

امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے جب یہ پوچھا کہ اسلحے پر کوئی امکانی پابندی اسرائیل کے خلاف کیا ہو سکتی ہے؟ ان کا جواب تھا’ یہ مفروضاتی اور بے خبری پر مبنی اندازے باتیں ہیں۔’

نیتن یاہو کا مخاصمانہ انداز

حالیہ ٹی وی انٹرویو میں جوبائیڈن کی سخت تنقید کو مسترد کرتے ہوئےاسرائیلی وزیر اعظم نے غزہ کی پٹی کے انتہائی جنوبی حصے رفح میں فوجی مہم کو آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے، نیز اب تو یہ بھی کہہ دیا ہے کہ اسرائیل کو جوبائیڈن نے نہیں چلانا میں نے چلانا ہے۔ اسی انداز کی باتیں پچھلے دنوں یاہو کے انتہا پسند اتحادی وزیروں نے کہی تھیں۔

امریکی امور سے آگاہ ایک ذریعے کے مطابق’ اسرائیل نے امریکہ پر واضح کر دیا ہے کہ وہ حماس کے 7 اکتوبر کے حملےکا جواب دیتے رہنے کے لیے بین الاقوامی مذمت کا سامنا کرنے کو تیار ہے۔’ پانچ ماہ کے دوران 31 ہزار فلسطینیوں کو قتل کر چکے اسرائیل کا یہ تہیہ غیر معمولی ہے۔

دوسری جانب امریکی حکام کہہ رہے ہیں کہ رفح پر کسی فوری اسرائیلی حملے کا کوئی نشان نہیں ہے۔ کہ اس حملے کی تیاری کے لیے کئی ہفتے درکار ہوں گے۔ تاہم جوبائیڈن اور ان کے معاونین نے وہاں اسرائیل کو تحمل کی ضرورت کے بارے میں بار بار انتباہ جاری کیا ہے۔ یورپی یونین کے ممالک نے بھی ایسے کسی حملے کو تباہ کن قرار دیا ہے۔ مگر لگتا یہ ہے اس طرح کی گو مگو والی صورت حال سے امریکی صدرجوبائیڈن بھی اوراسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو بھی فائدہ اٹھاتے رہیں گے۔ اگرچہ خوراک کے لیے تڑپنے ، بلکنے اور مرنے والے فلسطینیوں کی لاشیں بھی گراتا رہے گا ، جیسا کہ خوراک لینے جمع ہوئے ہجوم پر فائرنگ کر کے اسرائیلی فوج نے 115 فلسطینیوں کو قتل کر دیا اور آہستہ آہستہ سب خاموش ہو چکے ہیں۔

اگر ایسی کوئی بھی صورت بنتی ہے کہ اسرائیلی سلامتی کے لیے کوئی بھی سوال اٹھتا ہے تو ریپبلکن صدارتی امیدوار ممکنہ طور پر ریپبلکن صدارتی امیدوار اسے اپنے لیے فائدے کا ایک موقع بناتے ہوئے اس پر جھپٹ پڑیں گے۔ اس لیے جوبائیڈن کے لیے محفوظ آپشن یہی ہو سکتا ہے کہ وہ نیتن یاہو سے آہستہ آہستہ دورہونے کی حکمت عملی کو جاری رکھیں۔

انتظامیہ کی طرف سے اسرائیل کی جنگی کابینہ کے رکن بینی گینٹز کے حالیہ دورہ امریکہ کے بعد امریکی حکام کو امید ہے کہ وہ کسی دن نیتن یاہو کی جگہ لے سکیں گے۔ بینی گینٹز کے اس دورے پر نیتن یاہو کو ایک جھنجھلاہٹ میں دیکھا گیاتھا۔

امریکہ کی ممتاز دانشور اور ‘جانز ہاپکنز اسکول فار ایڈوانسڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز’ میں مشرق وسطیٰ سے متعلق تجزیہ کار ‘لورا بلومین فیلڈ ‘ کہتی ہیں کہ جوبائیڈن ایک سیاسی کٹوتی کر رہا ہے، نیتن یاہو کو کاٹنا اسرائیل کو بچانے کے لیے ضروری سمجھتے ہوئے ایسا کر رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *