May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/protect-the-arctic.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

امریکہ، برطانیہ، فرانس اور جرمنی اس ہفتے ہونیوالے اجلاس میں پھر ایران مخالف قرارداد نہ لائے

ایران کا آراک نیوکلیئر پلانٹ

امریکہ نے جمعرات کو دھمکی دی ہے کہ اگر تہران اقوام متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کے تعاون کرنے سے انکار کرکے اس کے کام میں رکاوٹ ڈالتا رہے گا اور ایجنسی کے جانب سے کئی سالوں سے طلب کردہ یورینیم کے نشانات کی وضاحت نہیں دے گا تو اس کے خلاف قرار داد لائی جائے گی۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے 35 ملکی بورڈ آف گورنرز کے سہ ماہی اجلاس میں واشنگٹن نے ایک بار پھر ایران سے ایجنسی کے معائنہ کاروں کے ساتھ تعاون کرنے کو کہا، بورڈ آف گورنرز برسوں سے تہران سے غیر اعلانیہ مقامات پر یورینیم کے ذرات کے ماخذ کے بارے میں وضاحت کا مطالبہ کر رہا ہے۔ امریکہ نے اب تک ایران کے خلاف قرارداد پیش کرنے سے گریز کیا ہے۔ سفارت کاروں نے واشنگٹن کی جانب سے اس ہچکچاہٹ کی وجہ نومبر میں ہونے والے امریکی صدارتی انتخابات کو بھی قرار دیا ہے۔ تہران اس طرح کے فیصلوں سے مطمئن نہیں ہوتا اور عام طور پر جواب میں اپنی سرگرمیاں مزید تیز کردیتا ہے۔

امریکہ نے کونسل کے اجلاس کے لیے ایک بیان میں کہا ہمیں یقین ہے کہ ہم اس مقام پر پہنچ گئے ہیں جہاں ہمیں اور عالمی برادری کو اس بارے میں دوبارہ سوچنا چاہیے کہ ایران کے مسلسل پتھراؤ کا کیا جواب دیا جائے۔ ہم ایران کے موجودہ طرز عمل کو جاری رکھنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے بورڈ آف گورنرز کی جانب سے یہ ہدایت دیتے ہوئے ایک سال سے زیادہ ہوگیا ہے کہ ایران یورینیم کے ذرات کے بارے میں ایجنسی کی سالوں سے جاری تحقیقات میں تعاون کرے۔ اس حوالے سے قرار داد کو تہران نے “سیاسی” اور “ایران مخالف” قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا حالانکہ صرف چین اور روس نے اس کی مخالفت کی تھی۔

امریکہ اور اس کے تین بڑے یورپی اتحادیوں برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے ایک مرتبہ پھر اس ہفتے ہونے والے اجلاس میں ایران کے خلاف قرارداد نہ لانے کا انتخاب کیا۔ تاہم امریکہ نے کہا کہ اگر ایران نے جلد ضروری تعاون فراہم نہیں کیا تو وہ کارروائی کرے گا۔

امریکہ نے کہا یہ ہمارا دیرینہ نظریہ ہے کہ ایران کی جانب سے بامعنی تعاون کا مسلسل فقدان بورڈ آف گورنرز کی مزید کارروائی کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتا ہے۔ اس میں اضافی قراردادوں کا امکان اور اس بات پر غور کرنا بھی شامل ہے کہ آیا ایران ایک بار پھر اپنی حفاظتی ذمہ داریوں کی عدم تعمیل کر رہا ہے۔

2018 میں سابق امریکی صدر ٹرمپ نے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبرداری اختیار کی تھی۔ اس کے تحت بڑی طاقتوں نے ایران پر عائد پابندیاں اٹھا لی تھیں۔ بدلے میں اس کی جوہری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی تھیں۔ پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد ایران نے ان سرگرمیوں کو معاہدے کی حدود سے کہیں زیادہ بڑھا دیا۔ تہران اب یورینیم کو 60 فیصد تک افزودہ کر رہا ہے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے تقریباً 90 فیصد کی ضرورت ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس کے اہداف مکمل طور پر پرامن ہیں اور اسے شہری مقاصد کے لیے اعلیٰ سطح پر افزودگی کا حق حاصل ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *