May 26, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/protect-the-arctic.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Iraq's Prime Minister Mohamed Shia al-Sudani and Spain's Prime Minister Pedro Sanchez (not pictured) attend a press conference in Baghdad, on December 28, 2023. (AFP)

امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے عراقی وزیر اعظم محمد شیعہ السوڈانی کو 15 اپریل کو امریکہ آنے کی دعوت دی ہے۔ اہم ترین موضوع عراق میں موجود امریکی افواج کے مزید قیم کرنے یا کرنے پر تبادلہ خیال ہوگا۔ اس امر کا اعلان وائٹ ہاؤس نے جمعہ کے روز کیا ہے۔

عراق میں امریکی فوج کی باقیات جو مسلح اور باوردی حالت میں مختلف جگہوں پر امریکی فوجی اڈوں پرموجود ہیں۔ سات اکتوبر کے بعد سے امریکہ اور اسرائیل مخالف گروپوں کے نشانوں کی زد میں ہیں۔ اس دوران مزاحمتی گروپوں کے علاوہ سیاسی سطح پر بھی یہ سوال زیر بحث آنے لگا ہے کہ امریکی فوج ابھی تک عراق میں کیوں ہے؟

عراقی حکومت نے اس امر کا جائزہ لینےکے لیے چند ماہ قبل ایئک کمیٹی بھی قائم کی تھی۔ اب اس تناظر میں صدر جوبائیڈن نے وزیر اعظم السوڈانی کو امریکی دورے کی دعوت دی ہے۔ جہاں وہ 15 اپریل کو وائٹ ہاوس میں ہوں گے۔ اکتوبر 2022 میں برسر اقتدار آنے کے بعد السوڈانی کا امریکہ کا یہ پہلا دورہ ہو گا۔

عراقی وزیر اعظم السوڈانی داعش کی شکست کے بعد عراق سے امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب یہ مسئلہ وائٹ ہاوس میں دونوں ملکوں کے نمائندوں کے درمیان باضابطہ زیر بحث آئے گا۔ ایک اندازے کے مطابق عراق میں 2500 کی تعداد میں امریکی فوجی موجود ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا موقف رہا ہے کہ داعش کی پائیدار شکست کے لیے ہم اپنی ذمہ داریاں اور وعدے پورے کرتے رہیں۔

وزیر اعظم عراق کے دفتر کا کہنا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں دوطرفہ تعلقات اور انتہا پسندی کے خلاف جنگ کے موضوعات پر بات ہوگی۔ واضح رہے سات اکتوبر کے بعد امریکی فوجی اڈوں پر کئی بار میزائل حملے کیے گئے اور کئی بار ایسا ہوا کہا امریکی فوج نے ان گروپوں کے ٹھکانوں اور افراد کو ڈرون حملوں یا بمباری کا نشانہ بنایا۔ دونوں طرف سے ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

ان گروپوں میں ایرانی حمایت یافتہ گروپ ہیں جو عراق سمیت پورے خطے میں مختلف ناموں سے موجود ہیں ۔ عراقی حکومت نہیں چاہتی کہ امریکہ اور ایران دشمنی کا میدان بنے۔ اس لیے عراقی حکومت امریکی فوج کے انخلا کے لیے ڈید لائن کے سوالوں پر بات چیت کرتی رہی ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس میں نومبر 2024 کے بعد بھی موجود رہنے کے لیے صدر جوبائیڈن کے لیے بھی اہم معاملہ ہے۔ اسی طرح ان کے مد مقابل ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے بھی اس میں دلچسپی فطری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *