May 25, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/protect-the-arctic.com/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
صورة نشرتها القيادة المركزية الأميركية لضبط سفينة أسلحة إيرانية

امریکی سیکیورٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ “بحیرہ احمر میں ہونے والے حملوں کے دوران حوثیوں کے لیے ایرانی حمایت فیصلہ کن انداز میں جاری ہے۔”

امریکی سینٹرل کمانڈ کے ڈپٹی کمانڈر ایڈمرل بریڈ کوپر نے زور دیا کہ بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر بمباری کرتے ہوئے ایران نواز حوثیوں کے لیے تہران کی مدد فیصلہ کن ہے۔

اہداف کے بارے میں معلومات

انہوں نے وضاحت کی کہ “ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر یمن کے اندر موجود ہیں، وہ حوثیوں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ انہیں اہداف کے بارے میں مناسب مشورے اور معلومات فراہم کرتے ہیں “۔

انہوں نے “سی بی ایس” نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ایرانی حمایت نئی نہیں بلکہ ایک دہائی سے جاری ہے کیونکہ تہران نے کئی سالوں سے حوثی گروپ کو فوجی سامان فراہم کیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ “جب ہم یہاں سمندر میں بیٹھتے ہیں دیکھتے ہیں تو وہ ان کی مدد کرتے ہیں۔ انہوں نے دہرایا۔ ہم جانتے ہیں کہ ایرانی انہیں مشورے دیتے ہیں اور معلومات بالکل واضح ہیں”۔

یہ قابل ذکر ہے کہ سات اکتوبر2023ء کو غزہ کی پٹی میں جنگ شروع ہونے کےبعد یمن کے حوثیوں نے کم از کم 45 میزائل جہازوں اور ڈرونز کو نشانہ بنایا۔

پینٹاگان کے مطابق امریکی افواج کو خود بھی فوری حملوں کا سامنا کرنا پڑا، جن میں سے کچھ حملے اس کے جہازوں پر کیے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *